برلن،26جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاجرت مخالف جرمن سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی سربراہ فراؤکے پیٹری نے کہا ہے کہ جرمنی میں پناہ دینے کا حق ملکی آئین کا حصہ دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے تناظر میں بنایا گیا تھا، جو موجودہ حالات میں موزوں نہیں رہا۔ جرمنی کی قدامت پسند اور مہاجرت مخالفت سیاسی پارٹی ’متبادل برائے جرمنی‘ (اے ایف ڈی) کی خاتون رہنما فراؤکے پیٹری کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’پناہ دیے جانے کے حق‘ سے متعلق قانون کی اصل روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ جب یہ قانون بنایا گیا تھا، اس وقت کی صورتحال مختلف تھی، جو اب یکسر بدل چکی ہے۔ جرمنی کا بنیادی آئین سن 1949 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس آئین کے آرٹیکل سولہ میں واضح طور پر درج ہے کہ ایسے افراد جنہیں اپنے ممالک میں سیاسی بنیادوں پر ظلم و ستم کا سامنا ہو، انہیں جرمنی میں پناہ دی جائے گی۔
فراؤکے پیٹری نے روزنامہ ’دی سائٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آرٹیکل سولہ اے کی حمایت کرتی ہیں تاہم پناہ دیے جانے کے عمل میں ریاستی سطح پر فیصلہ سازی کی جانا چاہیے نہ کہ سبھی کو پناہ دے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ ممالک سے آنے والے مہاجرین کی مدد کی جانا چاہیے لیکن ایسے بہت سے افراد بھی اپنے مہاجر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو دراصل مہاجر ہوتے ہی نہیں۔فراؤکے پیٹری نے کہا کہ جرمن آئین کو بنانے والے مہاجرین کی بہت کم تعداد کو پناہ دینے کی بات کر رہے تھے، جنہیں دوسری عالمی جنگ کے بعد احساس ذمہ داری کے تحت پناہ دینے کا قانون بنایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی پر لازم نہیں کہ وہ دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں اپنے ہاں زیادہ تارکین وطن یا مہاجرین کو پناہ دے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا اطلاق شامی مہاجرین پر نہیں کیا جا سکتا۔